رزق حلال
معنی
١ - جائز روزی، جائز ذریعۂ معاش۔ "ہم ان جاگیرداروں اور جرنیلوں کو سیاست سے نکال باہر کریں جو روز اول سے رزق حلال کما کر کھانے والے محنت کش طبقوں کے سر پر مسلط چلے آتے ہیں۔" ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٥٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'رزق' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر عربی اسم 'حلال' لگانے سے مرکب توصیفی 'رزق حلال' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٢ء، کو "ہفت کشور" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جائز روزی، جائز ذریعۂ معاش۔ "ہم ان جاگیرداروں اور جرنیلوں کو سیاست سے نکال باہر کریں جو روز اول سے رزق حلال کما کر کھانے والے محنت کش طبقوں کے سر پر مسلط چلے آتے ہیں۔" ( ١٩٨٥ء، پنجاب کا مقدمہ، ١٥٣ )